صفحہ اول / کالم و مضامین / : حضرت مولانا اشرف علی صاحبؒ کی رحلت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک عہد کا خاتمہ

: حضرت مولانا اشرف علی صاحبؒ کی رحلت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک عہد کا خاتمہ

تحریر:- سید قاسم علی شاہ، صدر علماء مشائخ

إِنَّا لِلّٰہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ

ابتدائیہ
علم و عمل، زہد و تقویٰ اور خدمتِ دین کا ایک روشن مینار، حضرت مولانا اشرف علی صاحبؒ اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ آپ کی وفات صرف ایک فرد کا دنیا سے رخصت ہونا نہیں، بلکہ علم و حکمت، اصلاحِ امت اور اخلاص کے ایک پورے عہد کا خاتمہ ہے جس بستی میں ایسے اہلِ دل اٹھ جائیں، وہاں کا منظر ویران سا لگتا ہے۔

سوانحی خاکہ
مولانا اشرف علی صاحبؒ نے اپنی زندگی کو قرآن و سنت کی تعلیم، درس و تدریس اور تزکیۂ نفس کے لیے وقف کر رکھا تھا۔ ۔ طلبہ کے لیے آپ شفیق تھے اور عوام کے لیے ہمدرد مصلح۔

آپ کی مجلس سادگی، انکساری اور للہیت کا نمونہ تھی۔ گفتگو میں نرمی، لہجے میں درد اور دل میں امت کا غم۔ اور آپ کے تربیت یافتہ علماء آج دنیا بھر میں دین کی خدمت میں مصروف ہیں۔

اوصاف و کمالات
مولانا مرحوم کی سب سے بڑی خوبی اخلاص تھی۔ مہمان نوازی، آپ کا معمول تھا۔ ۔ اختلاف کے باوجود فراخ دلی، اور ہر مسلک کے عالم کا احترام آپ کا شیوہ تھا۔

وفات کا سانحہ تقریبا دو ماہ اسلام آباد کے ایک ہسپتال میں زیر علاج تھے گردوں کا عارضہ تھا جس کی وجہ سے ہفتہ میں دو بار ڈائلسز ہوتے تھے جس کی وجہ سے نقاہت ہوچکی تھی۔

بیماری میں دوبار زیارت کے لئے ہسپتال جانا ہوا ملاقات پر پابندی تھی لیکن مجھ پے نظر پڑی اور اشارہ سے کمرے میں بلایا اور دیر تک مجھے دیکھتے رہے شاید میرے والد صاحب کی رفاقت یاد آگئی بہت دیر تک ہاتھ اٹھا کے دعا کرتے رہے
حضرت کی علالت کی خبر سن کر ہی ملک بھر کے اہلِ دل بے چین تھے اور بالآخر، 23 اپریل 2026 میں آپ اپنے مالکِ حقیقی کے حضور حاضر ہو گئے۔

پہلا جنازہ جمعہ کے بعد لیاقت باغ میں ادا کیا گیا جو ضیاء اللہ شاہ بخاری کی امامت میں ادا کیا گیا ۔ اس موقع پر دارلعلوم تعلیم القرآن کے اہتمام كی دستار بندی شیخ القرآن کے بڑے صاحب زادے مولانا قاضی احسان الحق کے باصلاحیت فرزند مولانا عطاء الحق کے سر پر کی گئی جبکہ نائب مہتمم مفتی ولی اللہ جبکہ سرپرستی مفتی انعام اللہ کو اکابر نے سونپی جنازہ میں تما م شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد علماء اکابر مشائخ تاجر سیاسی و سماجی شخصیت نے شرکت کی گویا ایک سمندر امنڈ آیا دوسرا جنازہ اٹک میں مغرب کے بعد ان کے صاحب زادے مفتی ولی اللہ نے پڑھایا

ہمارے لیے پیغام
بزرگوں کا جانا ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ دنیا فانی ہے اصل کامیابی اللہ کی رضا میں ہے مولانا اشرف علی صاحبؒ کی زندگی ہمارے لیے عملی نمونہ ہے۔

• علم کو عمل کے ساتھ جوڑنا • اخلاص کے ساتھ دین کی خدمت کرنا • امت کے درد کو اپنا درد سمجھنا • سادگی اور انکساری کو اختیار کرنا ۔ ہمارے والد گرامی حلیم الامت حضرت مولانا قاری سید نعمت شاہ صاحب رحمہ اللہ (مدفونمکہ المکرمہ )کے تعزیتی پروگرام میں شدید بیماری کے باوجود شریک رہے میری مکہ مکرمہ واپسی پے مولانا قاضی ہارون الرشید صاحب جنرل سیکٹری عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کےساتھ بسلسلہ تیمار داری حضرت کے گھر جانا ہوا تو بار بار اباجی کے اوصاف اور خصائل بیان کر رہے تھے اور ان کے انتقال پے رشک کرتے رہے۔

عمرے کے ایک سفر میں حرم مکہ میں موالانا سلطان محمود ضیاء اور مکہ مکرمہ میں میرے بھائیوں جیسے دوست مولانا عمران شفیع کے ساتھ اشرف علی صاحب رحمہ سے ملاقات ہوتی اکثر ملاقات ہوتی ان دنوں مولانا امان اللہ شہ ید ہوئے تھے اپنے پوتے کو ساتھ لیکر حرمین کے سفر اس غم کو کم کرنے تشریف لے گئے تھے ۔ ہمارے والد گرامی کی طرح عاجزی انکساری تھی جو بات پوچھتے نہایت متانت اور وقار کے ساتھ جواب دیتے اور خاموش رہتے۔

دعائیہ کلمات
اللہ تعالیٰ حضرت مولانا اشرف علی صاحبؒ کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنائے، ان کے درجات بلند فرمائے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ اللہ پاک ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق دے۔ آمین یا رب العالمین۔

"ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا”

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے