مولانا محمد اسحاق مانسہروی
رئیس الاحرار جنھیں مسلمان امیر المجاہدین کے لقب سے پکارتے تھے مولانا کی ذات ایک پوری تحریک تھی انکے جذبہ جہاد اور جوش عمل کے بہت سے پہلو تھے
میں ایک دن اپنے والد محترم حضرت مولانا قاری سید نعمت شاہ صاحب کی خدمت میں بیٹھا ہوا انکی تعلیمی حوالے سے بات چیت چل رہی تھی والد محترم نے اپنے زمانہ طالب علمی کا دور انوار العلوم میں گزارا اسمیں تذکرہ مولانا اسحق مانسہروی صاحب کا بھی ہوا تو (بندہ ناچیز)حافظ سید شاھد شاہ حیدری )کو شوق ہوا انکی حالات زندگی کا مطالعہ کرنے کا انکی مجاہدانہ زندگی پر تحریر لکھنا شروع کی اللہ پاک اس محنت کو قبول فرمائے آمین تو بات ہو رہی تھی
مولانا اسحق مانسہروی صاحب وجاہت شخصیت سفید داڑھی سر پر نیلے رنگ کی دستار کھلی آستینوں کی قمیض اور کھدر کا تہہ بند انکا رعب و دبدبہ بہت کم لوگوں میں دیکھا گیا مولانا اسحق مانسہروی گھوڑے پر سوار ہو کر علاقے کا گشت کیا کرتے تھے دو چار لٹھ بردار خادم بھی ہمراہ ہوتے تھے ان کی خاموشی میں ہیبت اور کلام میں دہشت کا اثر پایا جاتا تھا وہ جہاں سے گزرتے لوگ احتراما کھڑے ہوجاتے کیونکہ وہ اپنے شہر کے تنہا محبوب قائد تھے عوام کے دلوں پر ان کا سکہ رواں دواں تھا کوئی انکے آگے دم نہیں مار سکتا تھا انگریز بہادر بھی ان سے ڈرتا تھا کیونکہ مولانا قانون شکنی فرنگی کی کو بازیچہ اطفال گردانتے تھے انہوں کافی عرصہ فرنگی کی قید میں گزارا کر بھی اپنی روش نہیں بدلی ان کے بدن کو پگھلتے ہوے تانبے سے داغا گیا اور انہیں آخر کار مانسہرہ سے علاقہ بدر کا حکم دیا فرنگیوں نے
اسکے بعد کی باقی کی زندگی آخیر عمر تک راولپنڈی میں گزاری جہاں اجکل انکی یادگار
جامعہ انوار العلوم مسجد قاضی نظام الدین سابقہ انگورہ مسجد میں والد محترم کے مشفق استاد ومربی پیر طریقت حضرت مولانا سید چراغ الدین شاہ صاحب انکی علمی اور مرکز کے جانشین بنے
مولانا اسحٰق مانسہروی 1856 ء میں مولانا غلام احمد سلیمانی کے گھر حویلیاں ہزارہ میں پیدا ہوئے تھے۔ دینی تعلیم ہری پور، مانسہرہ،انبالہ،رام پور اور دلّی سے حاصل کی اور واپس آ کر مانسہرہ کی مرکزی جامع مسجد کے خطیب ہو گئے۔ 1914ء میں جب جنگ عظیم اوّل چھڑی تو مانسہرہ سے فوجیوں کی بھرتی کے خلاف آپ نے نہ صرف تقریریں کیں بلکہ ریکروٹنگ آفیسر اور سکھ جمعدار کی درگت بھی بنا ڈالی جس پر انگریز نے آپ کو دس نمبری میں درج کر لیا۔ چیف کمشنر سرحد مسٹر گرانڈ نے مولانا کی گرفتاری کے لیے پشاور میں دربار منعقد کرایا جس میں مولانا اسحٰق کو پھانسی دینے، گولی مارنے یا کالا پانی بھیجنے کی سزا تجویز کی، مگر مولانا نے یہاں بھی کھڑے ہو کر کہا کہ کانگریس اور تحریک خلافت نے فوج میں بھرتی کو حرام قرار دیا ہے۔ انگریز جو چاہے کرے مگر بالآخر اسے ہندوستان سے جانا ہی پڑے گا کیونکہ 30کروڑ لوگوں کو غلام نہیں بنایا جا سکتا۔ جس پر انگریز نے مانسہرہ میں بغاوت کے خطرے کے پیش نظر آپ کو گرفتار نہیں کیا مگر اس دربار کے چرچے اتنے پھیلے کہ مولانا لیڈر بن کر ابھرے۔ اسی دوران جب چیف کمشنر نے مانسہرہ کا دورہ کیا تو اس موقع پر مولانا کی جانب سے خطوط پھیلائے گئے کہ جہاد کا اعلان ہونے والا ہے لوگ مسلح ہو کر مانسہرہ پہنچ جائیں۔ سی آئی ڈی نے خبر دی کہ دوردراز سے 50 ہزار سے زائد لوگ مسلح ہو کر مانسہرہ آ رہے ہیں اگر انھیں نہ روکا گیا تو علاقے کی اینٹ سے اینٹ بج جائے گی۔ جس پر چیف کمشنر نے مولانا سے رابطہ کیا تو انھوں نے ان خطوط سے
لاعلمی ظاہر کی اور چیف کمشنر کے ساتھ خود جا کر مجاہدین کو منتشر کیا۔ مگر انگریز سرکار کو خطرے کا علم ہو چکا تھا اس لیے مولانا کو گرفتار کر کے پہلے سینٹرل جیل نینی تال الہ آباد اور پھر فتح گڑھ منتقل کر دیا گیا جہاں آپ کوسخت سزائیں دی گئیں۔ جنگ عظیم اوّل کے خاتمے کے بعد 1921ء میں آپ کو رہا کر دیا گیا مگر حویلیاں پہنچتے ہی آپ کو دوبارہ گرفتار کر کے صوبہ بدر کر دیا گیا۔ یہ تحریک خلافت کا آخری دور تھا جب آپ کو راولپنڈی میں اس کا سربراہ اعلی ٰ بنا دیا گیا۔ اس دوران لاہور میں مسجد شہید گنج کا واقعہ رونما ہوا تومولانا نے چیلنج کر دیا کہ اگر 31 اگست تک مسجد شہید گنج واگزار نہ کی گئی تو راولپنڈی سے سول نافرمانی کی تحریک کا آغاز کر دیا جائے گا۔ جس پر کئی لیڈروں کونظر بند کر دیا گیا جن کو محمد علی جناح کی کوششوں سے رہائی ملی۔ جناح جب راولپنڈی تشریف لائے تو مسٹر جان بیرسٹر ایٹ لاء کی کوٹھی پر جن لوگوں نے ان سے ملاقات کی تھی ان میں مولانا اسحٰق مانسہروی، سید مصطفی ٰ شاہ گیلانی اور محمد عارف راجہ شامل تھے۔اس ملاقات کے بعد قائد اعظم سری نگر روانہ ہو گئے اور انھوں نے وہاں سے مسلم لیگ پارلیمنٹری بورڈ کے جن 56 ناموں کا اعلان کیا تھا ان میں علامہ اقبال اور راولپنڈی کے مرد بزرگ مولانا محمد اسحٰق مانسہروی بھی شامل تھے۔
سول اینڈ ملٹری گزٹ لاہور کی 6 مئی 1936ء کی اشاعت میں قائداعظم کے دورۂ راولپنڈی کے بارے میں لکھا گیا کہ ’’مسٹر محمد علی جناح پیر کی شام کو لاہور سے روانہ ہو گئے۔وہ کشمیر جا رہے ہیں جہاں وہ ایک مہینہ قیام کا ارادہ رکھتے ہیں۔روانہ ہونے سے پہلے بتایا گیا کہ و ہ راولپنڈی میں ٹھہرتے ہوئے آگے جائیں گے۔راولپنڈی میں مولانا اسحٰق مانسہروی سے ملیں گے۔‘‘
پروفیسر منظورالحق صدیقی لکھتے ہیں کہ مولانا کا قیام امام باڑہ محلہ کی مسجد انگور (موجودہ نام مسجد قاضی نظام الدین جامعہ انوار العلوم ) میں ہوتا تھا اور اختلافی عقائد پر ڈنڈا اٹھانے کو بھی جائز سمجھتے تھے۔ 1926ء کے فسادات پر پورے پنجاب کی مسلم قیادت راولپنڈی کے مسلمانوں کے ساتھ کھڑی تھی۔ اسی دوران راولپنڈی کی مسلم قیادت کو خاص اہمیت مل چکی تھی۔اس لیے جب مسجدشہید گنج کا واقعہ سامنے آیا تو راولپنڈی کی قیادت کو بھی بطور خاص لاہور بلایا گیا۔مسجد شہید گنج کے سلسلہ میں گرفتاریوں کے خلاف میاں عبد العزیز بیرسٹر ایٹ لاء کی کوٹھی پر لاہور میں میٹنگ ہوئی جس میں سر محمد شفیع، علامہ اقبال،مولانا ظفر علی خان ڈاکٹر عالم،مولانا محمد اسحٰق مانسہروی،سید مصطفی ٰ شاہ خالد گیلانی اور مولانا اظہر امرتسری شامل تھے جس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ ا س واقعہ کی عدالتی تحقیقات کی جائیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس واقعہ کے بعد ہی علامہ اقبال نے قائداعظم کو خط لکھ کر ولایت سے واپس آ کر مسلمانوں کی قیادت سنبھالنے کا مشورہ دیا تھا۔ تحریکِ خلافت کے بعد جب مولانا ظفر علی خان نے مجلس احرار کا پرچم بلند کیا تو آپ کو ا س کا صدر چن لیا گیا۔ 1938ء میں قائداعظم کی دعوت پرمولانا مسلم لیگ میں شامل ہوئے تھے۔ صدر ایوب نے 1961ء میں آپ کے لیے ماہوار ایک سو روپیہ وظیفہ مقرر کیا تھا۔قبل ازیں ایک بار سیال شریف میں تحریک خلافت کا جلسہ ہوا،پیر آف گولڑہ مہر علی شاہ بھی چونکہ سیال شریف کے مرید تھے اس لیے وہ بھی گئے ہوئے تھے، مگر پیر مہر علی شاہ تحریکِ خلافت کے حامی نہیں تھے۔ اس لیے جب وہاں مولانا اسحٰق مانسہروی نے تقریر کی اور کہا کہ جو شخص خلافت کا منکر ہے وہ آئے اور میرے ساتھ مناظرہ کر لے جس پر پیر صاحب گولڑہ کے حامیوں اور مولانا اسحٰق مانسہروی کے مابین جھگڑا ہو گیا اور پولیس نے مولانا کو گرفتار کر لیا
مولانا اسحاق مانسہروی کے پاس اکثر مولانا انور شاہ کشمیری آکر ٹہرتے حضرت نے ابتدائ تعلیم مولانا غلام محمد صاحب کے پاس مانسہرہ میں اکھٹے حاصل کی تھی جب حضرت کشمیری انکے ہاں ٹہرتے تھے تو کھانا ہمیشہ پیر صاحب عید گاہ شریف خواجہ عبد الکریم نقشبندی صاحب کے گھر سے بن کر آتا ہوتا تھا اور تینوں حضرات کا آپس بہت زیادہ عقیدت مندی اور دوستانہ تھا بہت زیادہ لمبی نشستیں ہوتی تھی انکی آپس میں ۔مولانا نے ساری عمر شادی نہیں کی تقریباً 20 سال جیلوں میں رہے اور 115 سال کی عمر پائی۔ 8 دسمبر 1962ء کو وفات پائی اور اپنی وصیت کے مطابق حویلیاں ایبٹ آباد میں دفن کیے گئے۔ ساری عمر کرائے کے مکان میں رہے۔ ترکے میں 445 کتابیں،ایک گھوڑا اور ایک بوڑھا نوکر چھوڑے۔ انھوں نے محلہ امام باڑہ میں انگورہ مسجد اور مدرسہ بنایا جہاں انھوں نے 40 سال تک امامت اور درس و تدریس کے فرائض سر انجام دیے۔ حضرت نے زندگی میں پیر طریقت حضرت مولانا سید چراغ الدین شاہ صاحب کو اپنا جانشین بنایا اور مرکز انکے حوالے کیا اس پہلے شاہ صاحب عثمانیہ مسجد ہری پورہ محلہ کی مسجد میں ہوتے تھے
والد محترم مولانا قاری نعمت شاہ صاحب فرماتے ہیں حضرت کا بہت بڑا تاریخی جنازہ راولپنڈی کی مرکزی جامعہ مسجد میں ہوا اور وصیت کے مطابق آبائ علاقہ حویلیاں ایبٹ آباد میں تدفین ہوئی
اللہ پاک حضرت کے درجات بلند فرمائے آمین بجاہ النبی الکریم صلی اللہ علیہ وسلم
تحریر
حافظ سید شاھد شاہ حیدری
خانقاہ اہلبیت وروحانی علاج گاہ راولپنڈی
Nambardar.pk Nambardar.pk Islamabad, Karach And Lahore.