حضرت خواجہ خواجگان سید فقیر شاہ بھاکھری نقشبندی مجددی رحمہ اللہ
تعارف
موضع کروالہ (ضلع ہری پور، خیبرپختونخواہ) کی علمی و روحانی شخصیت حضرت سید فقیر شاہ بھاکھری نقشبندی مجددی رحمہ اللہ سلسلہ نقشبندیہ مجددیہ کے عظیم بزرگ اور خواجہ خواجگان پیر محمد قاسم نقشبندی مجددی موہڑہ شریف کے خلیفہ مجاز تھے۔ آپ میانہ قد، صاحبِ وجاہت، باوقار اور انتہائی نفیس طبیعت کے مالک تھے۔ لباس ہمیشہ صاف ستھرا اور بے داغ ہوتا۔ جس محفل میں تشریف لے جاتے، آپ ہی مرکزِ نگاہ بن جاتے۔
روحانی مقام و خدمات
آپ صحیح معنوں میں اللہ والے بزرگ تھے۔
اپنے علاقے میں ذکرِ الٰہی کی محفلیں آباد رکھتے اور لوگوں کی روحانی تربیت کرتے۔
مساجد کی تعمیر و آبادکاری کا شوق رکھتے، اسی لیے سب سے پہلے کروالہ میں عیدگاہ کی بنیاد رکھی۔ سو برس تک آپ اور آپ کی اولاد وہاں عیدین کی امامت فرماتے رہے۔
آپ نے مختلف مساجد میں مستقل امام و خطیب مقرر کیے جن کی خدمات کا سلسلہ آج تک جاری ہے۔
اخلاق و اوصاف
نفیس طبیعت، باوقار شخصیت اور خوش لباسی آپ کی نمایاں خصوصیات تھیں۔
آپ محفل میں میرِ مجلس ہوتے اور ہر کوئی آپ کی گفتگو کو توجہ سے سنتا۔
آپ مستجاب الدعوات بزرگ تھے۔ آپ کی دعائیں قبول ہوتیں اور کئی کرامات مشہور ہیں۔
تعلیم و تربیت
آپ نے اپنی اولاد کی علمی و روحانی تربیت پر خصوصی توجہ دی۔
مرشد خانہ موہڑہ شریف جاتے ہوئے اپنے بچوں کو بھی ساتھ لے جاتے اور توکل و قناعت کی نصیحت فرماتے۔
ہمیشہ فرماتے: “کبھی کسی سے قرض نہ لینا، اللہ پر بھروسہ کرو۔”
پیدائش و وصال
آپ کی ولادت تقریباً 1878ء میں ہوئی۔
آپ نے 80 برس کی بابرکت عمر پائی اور 1958ء میں وصال فرمایا۔
مزار مبارک کروالہ میں واقع ہے۔ وہاں باضابطہ عرس نہیں ہوتا، مگر اولاد و محبین قرآن خوانی اور فاتحہ کا اہتمام کرتے ہیں۔
روحانی فیضان
حضرت کا فیضان آج بھی جاری ہے۔ ان کی اولاد میں علماء، حفاظِ قرآن اور دینی خدمات انجام دینے والے افراد موجود ہیں۔ یہ حضرت کی ہی کرامت ہے کہ ان کے گھرانوں میں قرآن و علم کا چراغ مسلسل روشن ہے۔
مشہور واقعات و کرامات
1.. ہوفقیر بادشاہ کاظمی سادات سے تعلق رکھتے تھے ان کا جنازہ
ہو فقیر بادشاہ کاظمی مجذوب بزرگ کا جب انتقال ہوا تو علما نے نمازِ جنازہ پڑھانے سے انکار کر دیا۔ حضرت سید فقیر شاہ نے فرمایا: “میں ان کا جنازہ پڑھاؤں گا۔”
جب آپ نے نمازِ جنازہ پڑھائی اور چہرہ کھولا گیا تو شریعت کے مطابق مکمل داڑھی موجود تھی حالانکہ انتقال سے قبل داڑھی مونڈی تھی۔ اس واقعے نے سب کو حضرت کی بصیرت اور روحانی مقام کا قائل کر دیا۔
2. سلطان خان کے حجرے کا واقعہ
ایک عالمِ دین نے آپ کے اعزاز پر اعتراض کیا تو سلطان خان نے کہا:
“مولانا صاحب! یہ شاہ صاحب پہاڑ سے بھی بلند مقام رکھتے ہیں، ان کی روحانی توجہات سے ہی ہمارے حجرے آباد ہیں۔”
3. مزار کے درختوں کا واقعہ
مزار کے درخت کاٹ کر بیچنے کی کوشش کی گئی تو بار بار ٹرالی الٹ گئی۔ جب معافی مانگی گئی اور آمدنی مزار کی خدمت پر خرچ کی گئی تو مسئلہ حل ہوگیا۔
تعلق بالمرشد
آپ کا بیعت کا تعلق حضرت پیر محمد قاسم نقشبندی موہڑوی (باوا جی سرکار موہڑوی) سے تھا۔ آپ خلیفہ مجاز تھے اور پیدل قافلوں کی صورت میں مرشد کی خدمت میں حاضر ہوتے۔
دیگر علما و مشائخ سے تعلق
آپ کا مختلف مسالک کے جید علما اور بزرگانِ دین سے احترام کا تعلق تھا۔ خصوصاً پیر مہر علی شاہ گولڑوی سے عقیدت رکھتے تھے۔
اولاد و جانشین
حضرت کی اولاد میں سے:
سید عبد الرحمن شاہ بھاکھری: فوجی افسر، عامل اور حکیم۔
سید مسکین شاہ بھاکھری (دادا جان)
سید محمود شاہ بھاکھری (نانا جان)
سید ایوب شاہ بھاکھری (قیامِ پاکستان سے قبل فوج میں، بعد ازاں ہندوستان میں مقیم)
مولانا معظم حسین شاہ بن سید مسکین شاہ صاحب بن سید فقیر شاہ صاحب بھاکھری : عالمِ دین اور عامل، دادا جان کے نقشِ قدم پر چلنے والے۔اسی طرح ہمارے ماموں جان مولانا پیر سید محرم علی شاہ صاحب نقشبندی مجددی بن سید محمود شاہ صاحب بن سید فقیر شاہ صاحب بھاکھری کی دینی خدمات قابل تحسین ہیں
موجودہ دور میں مولانا قاری سید نعمت شاہ نقشبندی مجددی بن سید مسکین شاہ صاحب بن سید فقیر شاہ صاحب بھاکھری (والد محترم) ان کے علمی و روحانی نسبتوں کے امین ہیں۔
حضرت سید فقیر شاہ بھاکھری رحمہ اللہ کی پوری زندگی دین و روحانیت کی خدمت میں گزری۔ آج بھی آپ کا فیضان جاری ہے اور خاندانِ بھاکری سادات کے گھروں میں قرآن و علم کا نور روشن ہے۔
دعا:
اے اللہ! بھاکری سادات کی علمی و روحانی خدمات کو اپنی بارگاہ میں قبول فرما اور ان کی اولاد کو ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرما۔ آمین۔
✍️ تحریر: سید شاہد شاہ حیدری
خانقاہ اہل بیت و روحانی علاج گاہ، راولپنڈی
0313-5757313
Nambardar.pk Nambardar.pk Islamabad, Karach And Lahore.