صفحہ اول / کالم و مضامین / بھاکری سادات کے چشم وچراغ سید گل محمد غازی

بھاکری سادات کے چشم وچراغ سید گل محمد غازی

آپ کا خاندانی تعلق قلعہ بکھر روھڑی سندھ کے عظیم صوفی بزرگ حضرت سید محمد الحسینی بھاکری المعروف محمد المکی شیر سوار رحمہ اللہ کے ساتھ ہے
جنکی نسبت سے آپ اس علاقے میں بھاکری سادات کی حیثیت سے مشہور ہیں۔
حضرت سید گل محمد غازی رح
سید ابواسحاق نہرا پیر (مدفن سرائے خربوزا اسلام آباد) کے پوتے اور خلیفہ مجاز تھے اسی وجہ سے بعض شجروں میں آپ کے نام کے ساتھ بھی نہرا پیر لکھا گیا ہے۔ آپ کے والد محترم کا نام سید محمود غازی المعروف شاہ مقصود ہے۔ آ پ کی تاریخی اور دینی خدمات کی بنا پر حکومت پاکستان نے ہزارہ موٹر وے پر موجود شاہ مقصود انٹرچینج کو آ پ کے ہی اسم گرامی سے منسوب کیا۔ شاہ مقصود انٹرچینج کے قریب واقع خضری مسجد سے متصل قبرستان میں آپ کی قبر مبارک ہے۔
سید گل محمد غازی رح ایک صوفی بزرگ تھے صاحب کرامت اللہ والے تھے سلسلہ سہروردیہ اور چشتیہ کے علاؤہ خاندان اہلبیت میں سینہ بسینہ چلنے والے اپنے اجداد کے سلسلہ ” حسینیہ رضویہ بھاکریہ” میں مجاز تھے۔
اپنے علاقے میں انکی بے شمار علمی و روحانی خدمات ہیں۔ کئ غیر مسلم آپ کے دست حق پرست پر مسلمان ہوئے۔ جسکے کچھ واقعات کا تذکرہ انشاءاللہ آپ کی خدمت میں پیش کریں گے ۔
1872 کے سرکاری ریکارڈ کے مطابق میرا توت کے مقام پر ہندؤں کی جوگی نامی ایک قوم آباد تھی،جن کا ہزارہ کے اس اس علاقے پر قبضہ و تسلط تھا۔
قوم جوگیاں کا اپنے دور میں غیر معمولی عجائب اور جادو کی بنا پر کافی شہرہ تھا یہ لوگ اپنے مخصوص سرخ لباس یعنی خونی لباس کی بنا پر پہچانے جاتے تھے ،کانوں میں بڑی بڑی بالیاں پہنتے تھے، انکا رہن سہن پہاڑوں کی چوٹیوں اور ویران غاروں میں ہوتا تھا۔
ان جوگیوں کا مرکز ٹیلہ جوگیاں موجودہ ضلع جہلم میں تھا اسکے آثار قلعہ نما اب بھی موجود ہیں اور سیاحتی مرکز کی حیثیت رکھتے ہیں۔ سادہ لوح مسلمان ان سے اپنی منتیں مرادیں پوری کروانے کے لیے ان کے ارد گرد آتے رہتے اور طرح طرح کے شرک ،اور قبیح قسم کی رسومات میں مبتلا ہو جاتے جن کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں تھا، ایسے میں مرد مجاہد صوفی ء باصفاء
حضرت سید گل محمد غازی بھاکری اپنے مرشد دادا
حضرت ابو اسحاق نہرا پیر بھاکری سہروردی چشتی رحمہ اللہ اور اپنے والد محترم سید شاہ محمود غازی المعروف شاہ مقصود کے حکم پر اس علاقے میں ہجرت کرکے تشریف لائے ۔ آ پ نے یہاں کے سادہ لوح مسلمانوں کے ایمان کی حفاظت کیلئے جوگی قوم کے جادوئی تسلط کے خلاف علم اٹھایا ، آ پ نے اپنی باطنی اور روحانی قوت سے جوگیوں کے جادوئی تسلط کو ختم کیا اور دعوت وتبلیغ سے سادہ لوح مسلمانوں کی اصلاح فرمائی ، غیر مسلم آ پ کے ہاتھ پر مسلمان ہونا شروع ہو گئے۔ جب جوگیوں سے کچھ نہ بن پڑا تو وہ متحد ہو کر آ پ کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ، آ پ رح نے جہاد باالسیف کا حکم جاری کیا ، آپکی قیادت اور سپہ سالاری میں جوگیوں سے سخت ترین جنگ ہوئی، جوگیوں کا قتل عام ہوا اور کچھ جوگی مغلوب ہوکر قید ہوے جو بعد میں حضرت سید گل محمد غازی بھاکری کی تربیت میں رہ کر مسلمان ہوگے۔ الحمدللہ
حضرت سید گل محمد غازی رح
نے موضع مقصود سے متصل اس علاقے کو از سر نو سنت نبوی صل اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ پر چلتے ہوئے بحیثیت ایک مربی مرشد اور حاکم کی حیثیت سے آباد کیا ۔اھل علاقہ کو روحانی فیوض وبرکات سے مستفید کیا جوگیوں کی پھیلائی ہوئ شرکیہ رسومات سے اھل اسلام کے ایمان کی حفاظت فرمائ دین اسلام کی سر بلندی کے لیے آپ کی علمی دینی روحانی خدمات کے ساتھ ساتھ مجاہد اسلام اور غازی بن کر اس علاقے میں قائدانہ کردار ادا کیا اللہ پاک آپ کی خدمات کو قبول فرمائے آمین ثم آمین بجاہ النبی الکریم صلی اللہ علیہ وسلم ۔
آپ کے بعد آپ کی اولاد میں سید شاہ محمد رضا بھاکری سید گوھر شاہ بھاکری المعروف گپور شاہ اور سید بلند شاہ بھاکھری نے اس علاقے کو آباد رکھا۔
آ پ رح کی چار پشتیں شاہ مقصود اور میرا توت میں آباد رہیں۔جب سید بلند شاہ بھاکھری کا انتقال ہوا تو انکی اولاد مختلف علاقوں میں منتقل ہوگئ کچھ کشمیر میں چیلہ بانڈی مانسہرہ میں پکھلی کے مقام اور کچھ اسی طرح باجگراں میں چلے گئے اور چار بیٹے سید اکبر شاہ بھاکری سید احمد شاہ بھاکری (جو میرے جد ہیں ) سید موسم شاہ بھاکری اور سید شیر شاہ بھاکری خاص بگڑہ کے مقام پر جاکر آباد ہوئے۔ سکھوں کی حکومت میں سردار ہری سنگھ نے میراتوت اور شاہ مقصود کے علاقے سے بھاکری خاندان کی ملکیت کو ختم کرتے ہوئے مختلف خاندانوں میں جگہ کو تقسیم کر دیا ۔
گل محمد غازی رح کی اولاد میں شیر شاہ بھاکری کے پوتے نادر شاہ جو بھیڑی لبان بانڈی میں مقیم تھے اپنے بھائیوں حیدر شاہ ،جعفر شاہ، غازی شاہ اور اپنے مریدین خان بلال خان قوم دلزاک کے ہمراہ سکھوں کے تسلط کے باوجود اس علاقے میں آکر دوبارہ آباد ہوئے، نا گزیر حالات کی وجہ سے خان بلال خان دلزاک ہجرت کر کے علاقہ ناڑہ میں آ باد ہو گئے مگر سادات بھاکری اس علاقے میں ڈٹے رہے۔ آخر کار سردار ہری سنگھ کے دور میں ہی نادر شاہ اپنے بھائیوں کے ہمراہ شاہ مقصود، میرا توت اور اس پاس کے علاقوں میں بھرپور طور پر آباد ہوگئے، اور انکی اولاد آج تک یہاں آباد ہے۔
ہمارے جد سید احمد شاہ بھاکھری کا انتقال موضع بگڑہ میں ہوا اپکی اولاد بھی مختلف علاقوں میں پھیلی ہوئی ہے۔

ہمارے اجداد میں سید کرم شاہ بھاکری اور بدل شاہ بھاکری جو سید احمد شاہ بھاکری کے بیٹے ہیں آپ بگڑہ سے آگے پہاڑی علاقے موضع کروالہ میں جاکر آباد ہوئے۔
سید کرم شاہ بھاکھری کے بیٹے سید امیر شاہ بھاکری اپنے دور کے بہت بڑے فقیر بزرگ تھے، جنات آپ کی خدمت کیا کرتے تھے، سکھ قوم ان سے بہت ڈرتی تھی، آپ کی ایک مشہور کرامت تھی کہ آپ کے ہاتھ میں ایک سانپ ہوتا تھا جس سے لوگ بہت خوفزدہ رہتے، جبکہ حقیقت میں وہ جن تھا، آپ کے بیٹے سید فقیر شاہ بھاکری بھی صاحب کرامت بزرگ تھے آپ کے تفصیلی حالات الگ تحریر میں آپ کی خدمت میں پیش کروں گا آپ کا مزار کروالہ میں ہے جبکہ آپ کی اولاد میں سید عبد الرحمن شاہ بھاکھری یہ بھی زبردست عامل اور حکیم تھے دوسرے بیٹے سید مسکین شاہ بھاکھری میرے دادا جان تھے طبعاً سخت مزاج کے تھے لیکن غربت کے ہوتے ہوئے بھی انکی سخاوت مشہور تھی کوئی غریب سوالی آتا خالی ہاتھ نہیں بھیجتے تھے انکی اولاد میں مولانا سید معظم شاہ صاحب اور میرے والد محترم مولانا قاری سید نعمت شاہ صاحب کی کروالہ میں دینی خدمات مشہور ومعروف ہیں الحمدللہ ۔
ان شاءاللہ ان بزرگوں کے تفصیلی حالات بھی تحریر کروں گا۔
ہمیں اپنے بزرگوں سے سینہ بہ سینہ اور مشہور روایات اور پرانے شجروں کے مطابق یہ بتایا جاتا تھا کہ ہم ابو اسحاق نہرا پیر سرائے خربوزا اسلام آباد والوں کی اولاد سے ہیں الحمد للہ بعد میں جب تحقیق کی سرکاری ریکارڈ 1904 اور 1872 ءکا اکھٹا کیا محافظ مال ہری پور جہاں پر افتخار خان صاحب پہلے محافظ مال کے انچارج اور آجکل تحصیلدار ہیں اللہ پاک انکو خوش رکھے انہوں نے بہت زیادہ تعاون کیا میرے شجرہ جات کے حوالے سے اسکے بعد ادارہ تحقیقات انساب سادات بھاکری کے بانیان سید حسنین رضا الحسینی نقوی بھاکھری. حال مقیم یوکے سید نوید الرحمن الحسینی البھاکری حال مقیم اٹک سید زبیر حسین شاہ نقوی بھاکری ٹھپرہ سیداں نے اپنے پاس موجود سادات بھاکری کے مشاجر سے تصدیق کی اور انہوں نے مجھ ناچیز کی محنت کو دیکھتے ہوئے اپنی ٹیم میں شامل کرلیا اور کچھ زمہ داریاں بھی سپرد کیں جو ان سادات کا بڑا پن ہے
ا دعا ہے رب کریم خاندان اھلبیت خصوصاً بھاکری سادات کو متحداور منظم کرنے کے لیے ہم سب کو مل کر کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ النبی الکریم صلی اللہ علیہ وسلم
تحریر:-
حافظ سید شاھد شاہ حیدری بھاکری۔
اولاد سید گل محمد غازی بھاکری الحسینی ۔
خانقاہ اھل بیت و روحانی علاج گاہ راولپنڈی
03135757313

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے