صفحہ اول / انٹرویوز / عنوان: تم جیتو یا ہارو ہمیں تم سے پیار ہے

عنوان: تم جیتو یا ہارو ہمیں تم سے پیار ہے

*تحریر:- افتخار شاہد راجہ*
کسی بھی معاشرے میں کسی شخصیت کی اصل پہچان صرف عہدوں اور کامیابیوں سے نہیں ہوتی بلکہ اس اعتماد اور محبت سے ہوتی ہے جو لوگ اس کے لیے اپنے دلوں میں رکھتے ہیں۔ بعض اوقات انتخابی نتائج سے زیادہ اہم وہ اعتماد ہوتا ہے جو ایک کمیونٹی کسی فرد پر ظاہر کرتی ہے۔ صحافتی دنیا میں بھی ایسی شخصیات کم نہیں جو اپنی جدوجہد، اصولی موقف اور کمیونٹی کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے کی وجہ سے نمایاں مقام رکھتی ہیں۔ انہی شخصیات میں ایک نام راجہ عظمت علی کیانی کا بھی ہے۔
راولپنڈی اور اسلام آباد کی صحافتی برادری میں راجہ عظمت علی کیانی کو ایک ایسے شخص کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو نہ صرف صحافیوں بلکہ نمبر داران کے حقوق کے لیے بھی آواز اٹھاتے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ “تم جیتو یا ہارو ہمیں تم سے پیار ہے”۔ یہ جملہ محض ایک نعرہ نہیں بلکہ صحافتی کمیونٹی کے جذبات کی حقیقی ترجمانی کرتا ہے۔
نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے سالانہ انتخابات اس بات کا واضح ثبوت فراہم کرتے ہیں۔ گزشتہ برس 2025 کے انتخابات میں راجہ عظمت علی کیانی کو 400 سے زائد ووٹ ملے، جو اس بات کی علامت تھے کہ صحافتی برادری کا ایک بڑا حلقہ ان پر اعتماد کرتا ہے۔ تاہم 2026 کے انتخابات میں یہ اعتماد مزید مضبوط ہو کر سامنے آیا اور انہیں 700 سے زائد ووٹ حاصل ہوئے۔ ووٹوں کی یہ بڑھتی ہوئی تعداد اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ صحافتی کمیونٹی میں ان کے لیے حمایت اور احترام میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
درحقیقت کسی بھی کمیونٹی میں اعتماد اچانک پیدا نہیں ہوتا بلکہ یہ مسلسل جدوجہد، تعلق اور خدمت کے نتیجے میں حاصل ہوتا ہے۔ راجہ عظمت علی کیانی نے جس انداز میں صحافیوں اور دیگر طبقات کے مسائل کو اجاگر کیا، اس نے انہیں صحافتی حلقوں میں ایک نمایاں مقام دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ ان کے ساتھ اپنی وابستگی کو صرف انتخابی نتائج تک محدود نہیں رکھتے بلکہ اسے ایک تعلق اور اعتماد کے طور پر دیکھتے ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ انتخابات میں جیت اور ہار سیاسی و تنظیمی عمل کا حصہ ہوتی ہے، مگر اصل کامیابی وہ ہوتی ہے جب لوگ کسی شخصیت کو اپنا نمائندہ اور آواز سمجھیں۔ نیشنل پریس کلب کے انتخابات میں ووٹوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اسی حقیقت کا مظہر ہے کہ راجہ عظمت علی کیانی کے لیے صحافتی کمیونٹی میں اعتماد اور محبت کی فضا موجود ہے۔
یوں کہا جا سکتا ہے کہ بعض اوقات چند الفاظ پورے جذبے کی ترجمانی کر دیتے ہیں، اور راولپنڈی و اسلام آباد کی صحافتی برادری کے دلوں کی آواز بھی شاید یہی ہے:
“تم جیتو یا ہارو ہمیں تم سے پیار ہے۔”

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے