صفحہ اول / آرکائیو / پاکستان کی قربانیوں کا صلہ دشمن کی سہولت کاری کی صورت میں ملنا قبول نہیں، وزیر دفاع

پاکستان کی قربانیوں کا صلہ دشمن کی سہولت کاری کی صورت میں ملنا قبول نہیں، وزیر دفاع

اسلام آباد (نمبردار نیوز – اے پی پی۔ 28 فروری2026ء) وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ پاکستان کی قربانیوں کا صلہ دشمن کی سہولت کاری کی صورت میں ملنا کسی صورت قبول نہیں۔وزیر دفاع نے افغان قیادت کو وہ وقت یاد دلایا ہے جب پاکستان نے نہ صرف ان کی جنگوں کا بوجھ اٹھایا بلکہ دہائیوں تک ان کی میزبانی بھی کی۔جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی رات ’’ایکس ‘‘پر اپنے پیغام میں وزیر دفاع نے حقانی صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ماضی کی جنگوں میں سوویت یونین کے خلاف پاکستان دل و جان کے ساتھ آپ کے ساتھ کھڑا تھا۔
آپ ہمارے مہمان رہے، ہم نے آپ کے خاندانوں کی دہائیوں تک مہمانداری کی۔ تب کے لاکھوں مہمانوں میں سے لاکھوں اب بھی پاک سرزمین پر پناہ گزین ہیں اور ہماری پاک مٹی سے رزق کماتے ہیں، آپ بھی بمعہ خاندان ہمارے مہمان رہے ہیں، سوویت یونین کے خلاف ہم نے مل کر جنگ لڑی، آپ کا اور ہمارا ایک ہی ہدف تھا۔

انہوں نے کہا کہ اب آ جائیں 9/11 کے بعد کے حالات پر، ہم پر امریکا کا مستقل الزام رہا کہ ہم ’’حقانی نیٹ ورک‘‘ کے سہولت کار ہیں اور ان کی اعانت کرتے ہیں۔

ہم سے آپ کا پتہ پوچھا جاتا تھا، کچھ یاد ہے آپ کو؟ ہم پر آپ کی سہولت کاری کا وہ الزام سچ تھا یا جھوٹ، یہ اب آپ ہی دنیا کو بتا دیں۔

وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا کہ 1979 سے 9/11 تک بھی ہم آپ کی آپس کی لڑائیاں ختم کراتے رہے، ہم سب کو مکہ معظمہ لے جا کر صلح کرواتے رہے حالانکہ آپ سب ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے ہم نے آپ کے بزرگوں سے لے کر تین نسلوں کی مہمان نوازی کی ہے ،لیکن صلہ کیا ملا؟ آپ ہمارے قاتلوں کو پناہ دے رہے ہیں اور معصوم بچوں کے خون سے ہولی کھیلنے والوں کو سینے سے لگا رہے ہیں۔

آپ ہمارے گلی محلوں کو خون سے رنگین کرنے والوں کے حلیف بن چکے ہیں، میں کابل گیا، آپ سے ملاقات ہوئی تھی، تب ایک ہی درخواست کی تھی کہ ہمارے دشمنوں کے حلیف نہ بنیں اور ان کی اعانت نہ کریں، آپ نے رقم مانگی، ہم وہ بھی دینے کو تیار تھے مگر اس کی کوئی ضمانت نہیں تھی۔انہوں نے کہا کہ جس نسبت سے آپ کو ’’حقانی‘‘ پکارا جاتا ہے، وہ بہت عظیم بزرگ تھے، کم از کم اس نام کی ہی لاج رکھ لیں، ہم آپ سے کچھ بھی نہیں مانگتے، آپ اپنے گھر راضی رہیں، ہم اپنے گھر راضی رہیں، ہمارے دشمن کو بے شک اپنے گھر بسائیں، لیکن ان کے ساتھ مل کر ہمارے خلاف دشمن کا کردار ادا نہ کریں، اپنی سرزمین ہمارے خلاف استعمال ہونے نہ دیں، ہماری روایت، ثقافت اور دین ہمیں یہی سکھاتا ہے کہ جس گھر میں پناہ لی ہو، اس کی خیر مانگتے ہیں۔
اللہ اکبر،پاکستان زندہ باد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے