وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ فقید المثال اجتماع اتحادِ امت کی روشن تصویر پیش کر رہا ہے اور یہ اجتماع مسائل کے حل کے لیے یکسوئی، یگانگت اور مضبوط عزم کا اظہار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ باہمی اتحاد، افہام و تفہیم اور مثبت کردار کے ذریعے ہی چیلنجز پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کی دعوت پر امریکا اور ایران کے وفود کا اسلام آباد آنا ایک اہم پیش رفت ہے۔ ان کے مطابق فریقین کی آمد کے نتیجے میں جنگ بندی ممکن ہوئی اور مذاکرات کا آغاز ہوا، اور امید ہے کہ یہ عمل جلد دیرپا امن میں تبدیل ہوگا۔
وزیراعظم نے کہا کہ امن کے قیام سے خطے میں خوشحالی آئے گی، روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور معاشی استحکام مضبوط ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ پائیدار امن سے خطے میں محبت، اخوت اور تعاون کو فروغ ملے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے خطے میں امن کے لیے ہمیشہ متوازن اور اصولی مؤقف اپنایا ہے اور آئندہ بھی اپنا مثبت کردار جاری رکھے گا۔ وزیراعظم نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ فیلڈ مارشل کی کاوشیں خطے میں پائیدار امن کے قیام میں اہم کردار ادا کریں گی۔
وزیراعظم نے امریکا اور ایران کے وفود کا پاکستان آنے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے خطے اور دنیا میں ایک نئی تاریخ رقم کی ہے، اور امید ہے کہ مذاکرات کا عمل جلد خطے میں امن و استحکام کا باعث بنے گا۔
]]>تفصیلات کے مطابق، سیٹیزن فورم (خدمت کچہری) میں شہریوں کے سی ڈی اے، ایم سی آئی، آئی سی ٹی انتظامیہ سمیت دیگر فراہم کی جانے والی سروسز سے متعلقہ مسائل سننے جائینگے۔
سیٹیزن فورم (خدمت کچہری) کے انعقاد کا مقصد سی ڈی اے اور شہریوں کے درمیان براہِ راست رابطہ قائم کرنا، شہر کی بہتری کیلئے تجاویز اور شہریوں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا ہے۔
سیٹیزن فورم (خدمت کچہری) میں شہریوں کے جائیداد کی خرید و فروخت، بلڈنگ کنٹرول، غیر قانونی تعمیرات و تجاوزات، سڑکوں، سٹریٹ لائٹس، واٹر اینڈ سینیٹیشن، شجر کاری اور لینڈ سکیپنگ، بلنگ بقایاجات، ایکسائز کیسز، رہائشی کیسز، متاثرین اراضی، زیر التواء این او سیز، اسلحہ لائسنس، ریونیو کیسز، کوآپریٹیو سوسائٹیز، لیبر اینڈ ویلفیئر سمیت دیگر مسائل سنکر انکے حل کیلئے احکامات دیئے جائینگے۔
مزید برآں، جو شہری خدمت کچہری میں ذاتی طور پر شرکت نہیں کر سکتے، وہ اپنی شکایات اور تجاویز ای میل planning@cda.gov.pk پر بھی ارسال کرسکتے ہیں۔ سی ڈی اے انتظامیہ نے کہا کہ تمام موصول شکایات اور تجاویز کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے ان پر عملدرآمد اور شکایات کے فوری ازالے کو ادارے کے قواعد و ضوابط کے مطابق حل بھی کیا جائیگا۔علاوہ ازیں، خدمت کچہری میں شہریوں کو فراہم کی جانے والی خدمات و سہولیات کو مزید بہتر بنانے کے حوالے سے شہری اپنی قیمتی آراء بھی سی ڈی اے حکام تک پہنچا سکتے ہیں۔
تاکہ شہریوں کی قیمتی آراء کی روشنی میں فراہم کی جانے والی سروسز و خدمات کو جدید خطوط پر استوار کیا جاسکے۔ ان اقدامات کا مقصد شہریوں کی اسلام آباد کی بہتری میں شامل کرنا، انکے مسائل کو انکی دہلیز پر نہ صرف حل کرنا ہے بلکہ سروسز کے معیار کو مزید بہتر بنانا ہے۔دارالحکومت اسلام آباد کی بہتری اور ترقی میں شہریوں کی شرکت کو یقینی بنانے کیلئے خدمت کچہری ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگی۔ جہاں شہری نہ صرف اپنے مسائل خود اٹھا سکیں گے بلکہ سی ڈی اے، آئی سی ٹی اورایم سی آئی کے افسران انکے تحفظات کو سمجھ کر عملی اقدامات کرسکیں گے۔
]]>عالمی یومِ آزادی صحافت کے موقع پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ پاکستان میں آزاد، ذمہ دار اور متحرک میڈیا کے لیے حکومت اپنے عزم کا اعادہ کرتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا روایتی میڈیا طویل عرصے سے عوامی اعتماد اور جمہوری اقدار کے مضبوط ستون کے طور پر کام کر رہا ہے۔
عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ حالیہ معرکۂ حق کے دوران پاکستانی میڈیا نے دنیا کو توازن اور وضاحت کے ساتھ آگاہ کرنے میں ذمہ دارانہ اور حب الوطنی پر مبنی کردار ادا کیا، پاکستانی میڈیا تیزی سے جدید ٹولز اور عالمی رابطہ کاری کے نظام سے ہم آہنگ ہو رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت صحافیوں اور میڈیا ورکرز کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور ان کی کاوشیں لائقِ تحسین ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ پاکستان میں میڈیا کی آزادی، ذمہ داری اور اس کے روشن مستقبل کے لیے حکومت پرعزم ہے۔
]]>سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ صومالی حکومت نے پاکستانی شہریوں کی محفوظ وطن واپسی کے لیے تعاون فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
پاکستان نے صومالی حکومت کے ساتھ 10 پاکستانیوں کے اغوا کامعاملہ اٹھایا تھا۔
یاد رہے کہ بحری جہاز Honour 25 پر صومالی قزاقوں کے قبضے کے بعد سے 10 سے زائد پاکستانی عملہ یرغمال ہے جن میں کراچی سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شامل ہیں۔
مغویوں کے اہل خانہ شدید پریشانی میں مبتلا ہیں، انہوں نےحکومت سے فوری مدد کا مطالبہ کیا ہے۔
]]>وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج روسی صدر پیوٹن کے ساتھ ایران اور یوکرین کے معاملے پربات چیت ہوئی، پیوٹن نہیں چاہتے کہ ایران جوہری ہتھیارحاصل کرے، روسی صدر ایران کی مدد کرنا چاہتےہیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ یوکرین میں جزوی جنگ بندی کی تجویز دی تھی، پیوٹن کو کہا کہ ہماری جنگ سے پہلے اپنی جنگ ختم کریں، پیوٹن نے بتایا کہ وہ ایران کی یورینیم افزودگی کے معاملے پرفکرمند ہیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیارنہیں ہونے چاہیے، ایران کے ساتھ ٹیلی فون کے ذریعے مذاکرات جاری ہیں، ایران کوبس کہنا ہوگا کہ وہ ہارگئے ہیں۔
امریکی صدر نے کہا کہ ہم نے ایران کی فضائیہ کو تباہ کردیا، ایران کے پاس میزائل بنانے کی صلاحیت کم رہ گئی ہے، ایران کی معشیت سخت مشکلات کا شکار ہے، ایرانی کرنسی کی کوئی قدر و قیمت نہیں رہی۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ متحدہ عرب امارات کا اوپیک سے علیحدگی کا فیصلہ بہت اچھا ہے۔
]]>تفصیلات کے مطابق آل پاکستان نمبردار ایسوسی ایشن (رجسٹرڈ) کے بانی و چیئرمین راجہ عظمت علی کیانی نے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جنرل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاک فوج نے نہ صرف ملکی سلامتی کو مضبوط بنایا بلکہ خطے میں امن و استحکام کے فروغ میں بھی کلیدی کردار ادا کیا ہے، جس کے پیش نظر وہ اس عالمی اعزاز کے مکمل طور پر مستحق ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ صرف ایک مطالبہ نہیں بلکہ عوامی جذبات کی ترجمانی ہے، اور آنے والے دنوں میں خیبر سے کراچی تک پاک فوج کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کا عملی مظاہرہ کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری قوم اپنی افواج کے ساتھ کھڑی ہے اور ہر مشکل وقت میں ان کے شانہ بشانہ رہنے کا عزم رکھتی ہے۔
راجہ عظمت علی کیانی نے مزید کہا کہ پاکستان کی عسکری و سیاسی قیادت نے عالمی سطح پر امن کے قیام کے لیے جو کردار ادا کیا، وہ قابلِ ستائش ہے، اور بین الاقوامی برادری کو بھی ان کوششوں کا اعتراف کرنا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ دنیا کو درپیش چیلنجز کے حل کے لیے ایسے رہنماؤں کی حوصلہ افزائی ضروری ہے جو امن، استحکام اور سفارتکاری کو فروغ دیتے ہیں۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ آل پاکستان نمبردار ایسوسی ایشن ملک بھر میں اس حوالے سے عوامی سطح پر آگاہی مہم بھی چلائے گی تاکہ اس مطالبے کو عالمی سطح تک مؤثر انداز میں پہنچایا جا سکے۔
]]>تفصیلات کے مطابق آل پاکستان نمبردار ایسوسی ایشن کے بانی چیئرمین نمبردار راجہ عظمت علی کیانی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جنرل سید عاصم منیر نے اپنی پیشہ ورانہ قیادت، بصیرت اور جرات مندانہ حکمت عملی کے ذریعے نہ صرف پاکستان کی سیکیورٹی کو یقینی بنایا بلکہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے بھی کلیدی کردار ادا کیا۔
راجہ عظمت علی کیانی کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ عالمی حالات میں جہاں دنیا کو متوازن اور مضبوط قیادت کی ضرورت ہے، وہاں آرمی چیف کی دہشت گردی کے خلاف جنگ اور سرحدی سلامتی کے حوالے سے کاوشیں بے مثال ہیں۔ ان کی قیادت میں پاک فوج نے قومی دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے کے ساتھ ساتھ داخلی استحکام کے لیے بھی نمایاں خدمات سرانجام دی ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ نمبردار برادری، جو ملک بھر میں ایک مستحکم سماجی اور انتظامی حیثیت رکھتی ہے، یہ پرزور مطالبہ کرتی ہے کہ عالمی ادارے جنرل عاصم منیر کی ان خدمات کو تسلیم کریں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ متعلقہ عالمی فورمز اس مطالبے پر سنجیدگی سے غور کریں گے تاکہ پاکستان کی عسکری قیادت کے مثبت اور امن پسند کردار کو عالمی سطح پر سراہا جا سکے۔
]]>دونوں رہنماؤں کی ملاقات میں کشیدگی میں کمی کیلئے سفارتی اور مذاکراتی چینلز سے پائیدار حل کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے رضا امیری مقدم کو حالیہ دورۂ ایران سے بھی آگاہ کیا۔
ایرانی سفیر نے کشیدگی کم کرنے کیلئے پاکستان کے مثبت تعمیری کردار کو سراہا۔ محسن نقوی نے کہا کہ اسلام آباد مذاکرات کے دوسرے مرحلے کیلئے تیاریاں مکمل کی جاچکی ہیں، غیر ملکی وفود کی سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کئے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان چاہتا ہے کہ ایران اور امریکا کے تنازع کا حل مذاکرات کے ذریعے نکلے، ایران امریکا تنازع کا دیرپا حل ہی خطے کے استحکام و امن کا ضامن ہے۔
اس سے قبل وزیر داخلہ نے امریکی سفیر نیٹلی بیکر سے بھی ملاقات کی تھی۔
]]>اجلاس کے دوران عالمی رہنماؤں کے ساتھ ہونے والے حالیہ رابطوں سے بھی آگاہ کیا گیا جبکہ وزیراعظم کی طرف سے دوست ممالک کے غیر ملکی دوروں کا ایجنڈا سے متعلق بھی مختلف امور پر بات چیت ہوئی ۔ اس موقع پر سعودی عرب، ترکیہ اور قطر کے ساتھ پاکستان کے تعلقات پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔
اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ پاکستان امریکا اور ایران کے مابین مذاکرات کے دوسرے مرحلے کیلئے اپنی بھر پور کوششوں کا عمل جاری رکھے گا اس سلسلے میں پاکستان کے دوست ممالک اور امن کے خواہش مند ممالک سے بھی بھر پور مدد لی جائیگی
دوسری جانب ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں مذاکرات کے دوسرے دور کا امکان بھی پیدا ہو گیا ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق ثالثی کردار ادا کرنے والے ممالک نے دوسرے مرحلے کے لیے رابطے تیز کر دیے ہیں، اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آئندہ چند روز میں مذاکرات اسلام آباد میں ہو سکتے ہیں
]]>